Society and Culture Articles : Hamariweb.com – غربت

Advertisements

Article about

"Ghalib”part 1
Written by

"Nadia Umber Lodhi”
Published

In "Khabrain Manchester Uk”

میرزا نو شہ

انا طو لیہ کو تاریخ عالم میں کافی اہمیت حاصل رہی ہے اس کا لا طینی نام ایشیاء کوچک ہے تر کی کا یہ علا قہ عہد سلجوق میں پھر اس کے بعد عہد عثمانی میں ترکوں کا وطن بن گیا۔
"سلجوقی سلطنت "گیار ھویں سے چودھویں صدی کے درمیان میں وسط ِایشیا میں قائم اسلامی بادشاہت تھی۔ یہ نسلاً  خاندان ِاوغوز تر ک  سے تھے ۔
طفرل بیگ پہلا سلجوقی سلطان تھا اس نے سلجو قی سرداروں کو متحد کر کے حکومت بنائی اس طرح سلجوقی خاندان کے اقتدار کا آغاز ہوا ۔ اس خاندان نے کئی سو برس ایران توران و شام و روم (ایشیاء کو چک)پہ شان و شوکت سے حکمرا نی کی ۔ کئی بادشاہوں کے اقتدار کے بعد صلیبی جنگوں نے اس حکو مت کو منتشر کیا ۔ کیانی تمام ایران و توران پہ مسلط ہو گئے اور تورانیوں کا جاہ و جلال دنیا سے رخصت ہو گیا تو ایک مدت تک تصور کی نسل ملک و دولت سے محروم رہی لیکن تلوار ہاتھ نہ چھو ٹی ۔
"تو رابن فریدوں "کے خا ندان میں ہمیشہ سے یہ قاعدہ رہا کہ باپ کی وراثت میں تلوار بیٹے کے حصے میں آتی تھی اور "سامان خانہ "بیٹی کے حصے میں ۔
سلجو قی ترک منتشر حالت میں ایران ترک اور ہندو ستان کے علاقوں میں پھیل گئے ۔ لیکن تلوار ہاتھ سے نہ چھوٹی ۔ ان ہی میں سے ایک ترک امیر زادے نے سمر قند میں بودوباش اختیار کر لی جس کا نام تر سم خان تھا ۔ یہ گھوڑوں کا رسیا تھا اور متمول شخص تھا
ان کی اولاد میں عبداللہ بیگ خان کے والد بھی تھے یہ ترکی کے علاوہ کوئی زبان نہیں بو لتے تھے ۔ ہندوستان آے اور انہیں  میرزا نجف خاں  نے شاہ عالم کے دربار میں منصب دلا دیا ۔ عبداللہ بیگ خاں کی شادی غلام حسین خان کمیدان کی بیٹی سے ہوئی ۔  خواجہ غلام حسین خان  سر کار میرٹھ کے ایک فوجی افسر اور  عمائد ِشہر ِ آگرہ میں سے تھے ۔ آپ شروع میں نواب آصف آلدولہ  کے نو کر ہوۓ پھر وہاں سے حیدر آباد پہنچے اور سر کار آصفی میں تین سو سوار کی جمعیت سے کی برس تک ملازم رہے لیکن وہ نو کری خانہ جنگی کی صورت میں جاتی رہی آپ آگرہ لوٹ آے یہاں آکے الور کا قصد کیا ۔ ان ہی دنوں گڑ ھی کے زمیندار راج سے پھر گئے ان کی سر کو بی کے لئے فوج کو بھجا گیا اس فوج کے ساتھ میرزا عبداللہ کو بھی بھیجا گیا وہاں گولی کا نشانہ بنے اور وفات پا گئے ۔ راج گڑ ھ میں مد فون ہوۓ ۔ میرزا عبداللہ بیگ کے  چھوٹے بھائی نصراللہ بیگ خان  تھے۔
انگریز سر کار کی عمل داری ہندوستان میں قائم ہو گئی ایسٹ انڈیا کمپنی بڑھتے بڑھتے آگرہ تک آپہنچی ۔

نواب فخر الدولہ احمد بخش خان لارڈ لیک کے لشکر میں شامل ہو گئےتو انہوں نے میرزا  نصراللہ بیگ کو فوج میں رسالداری کے عہدے پہ ملازم کر وادیا۔
ان  کی رسالداری کی تنخواہ دو پر گنا یعنی سون اور سونسا جو نواح آگرہ میں واقع ہیں ۔ سرکار سے ان کے نام پہ مقرر ہو گئے ۔ جب انگریز آے تو نصراللہ خان نے بر طانوی راج کی اطاعت قبول کر لی اور اس طرح یہ دو پر گنے انکی وفات تک ان کے نام پہ رہے بعد ازاں  انکی پنشن مقرر ہو ئی ۔ نصراللہ خان کی وفات ہاتھی سے گرنے سے ہوئی ۔ آپ کے پسماندگان میں دو یتیم بھتیجے بھی چھوڑے ……
جن کے نام میرزا اسد اللہ خان آور میرزا یوسف تھے۔جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

Article  about ”

"Ghalib ”
by ”

"Nadia Umber Lodhi”  

Published in 

"Khabrain Manchester UK ”

"میرزا نو شہ”
حصہ دوئم 

"میر زا  غالب شخصیت اور فن ” ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے 

کہتے ہیں کہ غالب کاہے انداز بیاں اور ”
—-

عبداللہ بیگ کے گھرانے میں  میرزا سد اللہ خاں نے 27دسمبر1797میں آگرہ میں جنم لیا ۔ جب  آپ پانچ سال کے ہوۓ  تو میرزا عبداللہ بیگ میدان جنگ میں گولی کا نشانہ بنے اور وفات پاگۓ۔پھر چچا نصراللہ بیگ کے زیر کفالت آگئے میرزا کے چچا آگرہ کے گورنر تھے ۔
غالب کے چچا نے بغیر لڑے آگرہ کا قلعہ انگریز لارڈ لیک  کے حوالے کر دیااور اس طرح بدلے میں انگریز فوج میں چار سو سواروں کے ر سا لدار ہو گۓ۔
میرزا غالب چچا کے زیر کفالت آگۓ۔گھر پر ننھے اسد اللہ کی تعلیم و تربیت کا بند وبست کیا گیا ۔ فارسی اور عربی کے استاد مقرر کیے گئے۔فارسی کے استاد کا تعلق ایران سے تھا لہذا اس استاد کی صحبت نے میرزا کے مذہبی عقائد پر بھی اثر ڈالا اور حب ۔ اہل بیت میں اضافہ ہوا ۔
کچھ عرصہ بعد اسد اللہ غالب کے چچا ہاتھی سے گر کے ہلاک ہو گئےان وقت میرزا کی عمر  آٹھ  برس ہو چکی تھی ۔ اور میرزا کے چچا کی وفات کے بعد چچا کے سالے نواب احمد بخش خان والی لو ہارو نے کم سن غالب کے لئیے انگریزوں کی پنشن جاری کروائی۔(یہ پنشین غالب کے چچا کی خدمات کا صلہ تھی)
اس سے میر زا کی گزر بسر ہو نے لگی ۔ 

میرزا کی عمر تیرہ سال ہو گئی آپ کی شادی 1810میں نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی میرزا الہی بخش معروف خاں کی بیٹی امرا ء بیگم سے ہو گئی شادی کے بعد میرزا دہلی منتقل ہو گئے
وہاں مستقل سکونت اختیار کی اور وفات تک مقیم رہے ۔
میرزا شادی کے بعد چاندنی چوک بلی ماروں کے محلے میں ایک حویلی کر آۓ پر لے کر رہنے لگے ۔ شروع میں اسد تخلص رکھا پھر اسی نام کے ایک اور شاعر منظر پر آۓ تو غالب تخلص رکھ لیا ۔ غالب نے آگرہ میں کچھ وقت اپنے سسر کے زیر شفقت بھی گزارا جن سے غالب کی شاعری کے رجحان کو جلا ملی ۔سسر کے مشورے پر تخلص بدلا اور شراب نوشی کی لت بھی سسر سے پڑی جو کہ تاعمر نہ چھوٹ سکی ۔ دلی منتقل ہو نے کے بعد اخرا جا ت بڑھ گئے دو مستقل نوکر کام کاج کی غرض سے گھر میں رکھے ہوۓ تھے ۔ روزگار کا کوئی سلسلہ نہ تھا ایک پنشن کا سہارا تھا وہ بھی کچھ وجوہات کی بنا پر ملنا بند ہو گئی ۔ اب قر ضہ  چڑ ھنے لگا مالی حالات بد تر ہو نے لگے اس دوران میں امراء بیگم کے ہاں بچے کی پیدائش ہو ئی جو چند سانسیں لے کر ملک ۔ راہی عدم ہوا ۔ پر یشانیوں نے غالب کو گھیر  لیا ۔ 

"رنج سے خو گر ہو انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں مجھ پہ پڑیں  اتنی کہ آساں ہو گئیں ”

غالب دن بھر شعر لکھتے اور رات بھر شراب پیتے ۔ایک عجیب عادت تھی میرزا کی ۔شعر کہتے جاتے اور رومال پر گرہ لگاتے جاتےپھر شراب پیتے پیتے سو جاتے اور ایسا کمال کا حافظہ پایا تھا کہ صبح بیدار ہو نے کے بعد گرہ کھولتے جاتے مصرعے لکھتے جاتے ۔   دیوان مکمل کر کے کتابت کروایا اور آگرہ بھجا تو ہر ناشر نے چھاپنے سے انکار کردیا میر زا کا شاعرانہ انداز معاصر ین کے لئے ناقابل قبول تھا ۔جس پر میرزا بولے !

"گر نہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی”

غالب نے لفظوں سے کھیل کر تخیلاتی تصویریں بنائی ۔غالب نے خالص اردو لغت کا سہارا لیا۔ غالب کی شخصیت اور فن کثیر الجہتی ہے۔ان کی انفرادیت اور عظمت اتنے پہلوؤں میں جلوہ گر ہوئی  ہے کہ اس کا احاطہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں ۔
غالب نے اپنی فنی زندگی کا آغاز فارسی شعر گوئی سے کیا اور کلام کے تین حصے فارسی اور ایک حصہ اردو شاعری پر مبنی ہے۔میرزا نے فارسی شاعر بیدل کو تقلید کے لئے چنا ۔

"طرز بیدل میں ریختہ لکھنا 

    اسد اللہ خاں قیامت ہے”

پھر غالب نے شاعری کے دوسرے دور میں قدم رکھا ۔ یہاں اردو شعر کہتے ہوۓ فارسی کے الفاظ  اردو شاعری کی دلکشی میں اضافہ کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ نازک خیالی بدستور موجود ہے۔مگر اس کے ساتھ ساتھ عقلیت ، معنویت، اور جذبہ کی شدت سر چڑ ھ کر بولتی ہے۔ غالب یہاں تنگناۓ غزل کو وسعت بخشتے نظر آتے ہیں ۔یہاں وہ کبھی تصوف میں پناہ ڈھونڈ تے ہیں ۔ تو کبھی مذہب میں امان تلاش کر تے ہیں ۔
کبھی یاسیت کے گہرے سمندر میں  گرتے گرتے بچنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں ۔ اور کبھی خوابوں ہی خوابوں میں آرزوؤں کی جنت تلاش کرتے ہیں ۔ اس دور کی انفرادیت غالب کی بے چینی ہے ۔ وہ آسمان کی تلاش میں ضرور نکلے لیکن زمین نے انہیں خود سے جدا نہ کیا ۔ انہوں نے ولی بنا چاہا لیکن دنیا تمام تر رنگینوں کے ساتھ دامن گیر رہی 

"یہ مسا ئل تصوف یہ ترا بیان غالب 

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ با دہ  خوار ہو تا”
-/
محبت کاروائتیی  مضمون جب غالب کے قلم سے چھوتا ہے تو ایک ایسے شخص کی محبت بن جاتا ہے جو خوددار بھی ہے انا پرست  بھی ۔ وہ افلاطونی محبت کا قائل نہیں ۔

"کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب ۔ غم بری بلا ہے 

مجھے کیا بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہو تا”

کہیں تعلق کو ندرت بیاں عطا کرتے دکھائی دیتے ہیں 

"ذکر اس پری وِش کا اور پھر بیان اپنا 

بن گیا رقیب آخر جو تھا رازداں اپنا ”

تصوف کے کئی مضامین غالب کے کلام میں ملتے ہیں ۔ 

"جب تجھ بن نہیں کوئی  موجود 

پھر  یہ ہنگامہ ، اے خدا  کیا ہے ”  

  اور یہ جب کلام کا حصہ بنتے ہیں توان میں بھی عقلیت اور معنویت کار فر ما ملتی ہے ۔

” نہ تھا کچھ تو خدا تھا،کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا 

ڈبویا مجھ کو ہونے نے ، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا ”

مذہب کا تقدس درست مگر کیا کئجئے غالب شاعر بھی تو ہیں سخن کے بے تاج بادشاہ بھئ تو ہیں کہیں صداۓ ۔ دل بلند بھی ہو سکتی ہے ۔ 

"کیا  وہ  نمرود کی  خدائی تھی 

بندگی میں  بھی مرا بھلا نہ ہوا”

غالب کے نامساعد حالات ، مالی تنگی ، اولاد کی پہ در پہ وفات نے شکوہ ان کے شعروں کا حصہ بنا یا ہر شاعر اپنے حالا ت کی پیدا وار ہو تا ہے ۔ شعر کی آمد کیا ہے ؟۔ خیالات اور سوچ کی زبان ۔ خیالا ت خود بخود بحر میں ڈھل کر ، الفاظ میں سج کر صفحہ ۔قر طاس پر بکھر نے لگتے ہیں تو غزل ہو جاتی ہے ۔ شعوری  کوشیش شعر نہیں بن سکتی کیونکہ یہ ہمشہ’ بے وزن ‘، بے رنگ ، بے بو ہو تی ہے ۔ 

"زندگی اپنی  جو  اس   شکل سے گزری  غالب 

ہم بھی  کیا یاد   کریں گے کہ خدا رکھتے تھے ”

شاعر وقت اور حا لات پر اظہار شعر کےپیراۓ میں کر تا ہے ۔
غالب کی شاعری کا تیسرا  دور سادہ بیانی  کا دور ہے ۔ تشبیہات اور استعارے کم سے کم برتے ۔ نظریہ ۔ حیات اور نفسیات۔انسانی  کو سیدھے سادے پُر کار انداز میں پیش کیا ہے ۔ اسلوب ۔ بیان میں بے حد تازگی ہے۔ مضامین وہ ہیں جو بنی نوع انسان کے ساتھ روز ۔ ازل سے وابستہ ہیں اور آباد تک رہیں گے ۔ 


"دائم پڑا رہوں ترے در پر نہیں ہوں میں 

خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں ”

غالب غزل کے شاعر ہیں ۔اور غزل واردات۔  عشق کی روداد۔
غالب کی عشقیہ شاعری زندگی  سے بھر پور ہے ۔ یہ زندگی آمیز بھی ہے  اور زندگی آموز بھی ۔ یہ زندگی سے بیزاری نہیں سکھاتی بلکہ زندگی بس ر کر نے کا سلیقہ سکھا تی ہے ۔اس میں جذبات کی بہت اہمیت ہے لیکن یہ تمام تر جذباتی نہیں اس میں روایت جے اثرات بھی ہیں لیکن روایتی ہونے سے اس کو تعلق نہیں ۔ اس میں فرد کی انفرادی کیفیات کی ترجمانی ہے لیکن اسکا سماجی پس ۔ منظر بھی ہے ۔ یہ اپنے زمانے کی پیداوار ہے ۔ اس میں بہت صاف ستھری فضاہے ۔ یہ بڑی  شفاف ہے جیسے کوثر و تسنیم سے دھل  کے نکلی ہو۔ یہ دلوں میں شمعیں سی فروزاں کرتی چلی جاتی ہے۔ اس میں فلسفیانہ زاویہ نظر کی جھلک ہے لیکن مفکرانہ آہنگ بھی ہے ۔اس میں پیچ و خم ہیں ، نشیب و فراز ہیں ۔یہ خاصی پہلو دار ہے۔ذہنی الجھنوں نے اس کا راستہ نہیں روکا۔ اسکی صورت مسخ نہیں کی۔اس کے غم کی بنیاد زندگی کو حسین دیکھنے کی تمناہے ۔
غالب کی شخصیت میں انسانیت اور خود پسندی کا رنگ بہت نمایاں تھا۔

"وہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے ، ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں ؟

سبک  سر    بن  کے  کیوں  پو چھیں   کہ ہم  سے  سر گراں کیوں ہو ”

مشکل پسندی غالب کے مزاج کا غالب رجحان ہے ۔غالب کو غالب بنایا بھی اسی ادا نے ہے ۔میرزا نے جس پُر آشوب دور میں آنکھ کھولی وہاں ماحول حقیقت پسندی سے فر ار کا متقاضی تھا۔غالب بھی اگر عام فرد ہوتے تو مفاہمت کی راہ اختیار کر لیتے لیکن انہوں نے مشکلات کو آواز دی ۔ انکی مشکل پسندی کی ایک وجہ موروثی روایات بھی تھیں ۔میر زا کے آباء اجداد "ایبک "قوم کے ترک تھے۔ انکا سلسلہ نسب "تو رابن فریدوں "تک پہنچتا ہے جس کا تفصیلا ذکر پچھلے حصے میں ہو چکا۔لڑنا سلجوقی ترکوں کا پیشہ تھا ۔ میرزا غالب کا عہد آیا تو رزم کا میدان مشاعرے میں تبدیل ہو چکا تھا ۔میرزا کو شاعری سے کہیں زیادہ آباء اجداد کی سپہ گری پر ناز تھا ۔

"سو پشت سے ہے پیشہ آباء سپہ گری 

کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے ”

میرزا کی زندگی پر نظر ڈالئیے تو ایک ٹیڑ ھی لکیر نظر آتی ہے ۔انہوں نے آلات و مصائب کا مقابلہ جوانمر دی سے کیا 
انکے لیے درد ہی دوا بن گیا۔ غالب زندگی کی ہموار دائرہ کو چھوڑ کر پیچیدہ پگڈنڈی پر چلنے کے عادی تھے اور یہ ہی انداز شاعری میں بھی اپنایا ۔ اور پھر کمال یہ دکھایا مشکل گوئی سے سادہ بیانی کی طرف ہجرت کی ۔ "سہل ممتنع” کا انداز اپنایا 

"جب توقع ہی اٹھ گئی غالب 

کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی ”

غالب کی شاعری کی ایک انفرادیت ان کا استفہامیہ لہجہ بھی ہے ۔استفہام سے شاعری کو نیا رنگ بخشا ۔

"دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس درد کی دوا کیا ہے”

اکثر اشعار میں استفہام کو انکاری رنگ بھی دیا 

"موت کا  ایک دن  معین  ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"بہت سہی غم ۔ گیتی ، شراب کیا کم ہے
–/
غلام ساقی ۔ کوثر ہوں ، مجھ کو کیا غم ہے ”

غالب کی شخصیت نہایت رنگین پُر کار اور پہلو دار ہے ۔غالب کے مزاج  کی شوخی کلام پر بھی اثر انداز ہوئی ۔ انکی ذہانت کا ایک مظہر حاضر جوابی بھی تھی ۔کلام میں بھی ظریفانہ عناصر پاۓ جاتے ہیں ۔

"پو چھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا”
—-
جاری ہے
نادٓیہ عنبر لودھی 
اسلام آباد 

میرزا نو شاحصہ دوئم

"میر زا غالب شخصیت اور فن ” ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کاہے انداز بیاں اور ”
—-

عبداللہ بیگ کے گھرانے میں میرزا سد اللہ خاں نے 27دسمبر1797میں آگرہ میں جنم لیا ۔ جب آپ پانچ سال کے ہوۓ تو میرزا عبداللہ بیگ میدان جنگ میں گولی کا نشانہ بنے اور وفات پاگۓ۔پھر چچا نصراللہ بیگ کے زیر کفالت آگئے میرزا کے چچا آگرہ کے گورنر تھے ۔
غالب کے چچا نے بغیر لڑے آگرہ کا قلعہ انگریز لارڈ لیک کے حوالے کر دیااور اس طرح بدلے میں انگریز فوج میں چار سو سواروں کے ر سا لدار ہو گۓ۔
میرزا غالب چچا کے زیر کفالت آگۓ۔گھر پر ننھے اس اللہ کی تعلیم و تربیت کا بند وبست کیا گیا ۔ فارسی اور عربی کے استاد مقرر کیے گئے۔فارسی کے استاد کا تعلق ایران سے تھا لہذا اس استاد کی صحبت نے میرزا کے مذہبی عقائد پر بھی اثر ڈالا اور حب ۔ اہل بیت میں اضافہ ہوا ۔
کچھ عرصہ بعد اسد اللہ غالب کے چچا ہاتھی سے گر کے ہلاک ہو گئےان وقت میرزا کی عمر آٹھ برس ہو چکی تھی ۔ اور میرزا کے چچا کی وفات کے بعد چچا کے سالے نواب احمد بخش خان والی لو ہارو نے کم سن غالب کے لئیے انگریزوں کی پنشن جاری کروائی۔(یہ پنشین غالب کے چچا کی خدمات کا صلہ تھی)
اس سے میر زا کی گزر بسر ہو نے لگی ۔

میرزا کی عمر تیرہ سال ہو گئی آپ کی شادی 1810میں نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی میرزا الہی بخش معروف خاں کی بیٹی امرا ء بیگم سے ہو گئی شادی کے بعد میرزا دہلی منتقل ہو گئے
وہاں مستقل سکونت اختیار کی اور وفات تک مقیم رہے ۔
میرزا شادی کے بعد چاندنی چوک بلی ماروں کے محلے میں ایک حویلی کر آۓ پر لے کر رہنے لگے ۔ شروع میں اسد تخلص رکھا پھر اسی نام کے ایک اور شاعر منظر پر آۓ تو غالب تخلص رکھ لیا ۔ غالب نے آگرہ میں کچھ وقت اپنے سسر کے زیر شفقت بھی گزارا جن سے غالب کی شاعری کے رجحان کو جلا ملی ۔سسر کے مشورے پر تخلص بدلا اور شراب نوشی کی لت بھی سسر سے پڑی جو کہ تاعمر نہ چھوٹ سکی ۔ دلی منتقل ہو نے کے بعد اخرا جا ت بڑھ گئے دو مستقل نوکر کام کاج کی غرض سے گھر میں رکھے ہوۓ تھے ۔ روزگار کا کوئی سلسلہ نہ تھا ایک پنشن کا سہارا تھا وہ بھی کچھ وجوہات کی بنا پر ملنا بند ہو گئی ۔ اب قر ضہ چڑ ھنے لگا مالی حالات بد تر ہو نے لگے اس دوران میں امراء بیگم کے ہاں بچے کی پیدائش ہو ئی جو چند سانسیں لے کر ملک ۔ راہی عدم ہوا ۔ پر یشانیوں نے غالب کو گھیر لیا ۔

"رنج سے خو گر ہو انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں مجھ پہ پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں ”

غالب دن بھر شعر لکھتے اور رات بھر شراب پیتے ۔ایک عجیب عادت تھی میرزا کی ۔شعر کہتے جاتے اور رومال پر گرہ لگاتے جاتےپھر شراب پیتے پیتے سو جاتے اور ایسا کمال کا حافظہ پایا تھا کہ صبح بیدار ہو نے کے بعد گرہ کھولتے جاتے مصرعے لکھتے جاتے ۔ دیوان مکمل کر کے کتابت کروایا اور آگرہ بھجا تو ہر ناشر نے چھاپنے سے انکار کردیا میر زا کا شاعرانہ انداز معاصر ین کے لئے ناقابل قبول تھا ۔جس پر میرزا بولے !

"گر نہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی”

غالب نے لفظوں سے کھیل کر تخیلاتی تصویریں بنائی ۔غالب نے خالص اردو لغت کا سہارا لیا۔ غالب کی شخصیت اور فن کثیر الجہتی ہے۔ان کی انفرادیت اور عظمت اتنے پہلوؤں میں جلوہ گر ہوئی ہے کہ اس کا احاطہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں ۔
غالب نے اپنی فنی زندگی کا آغاز فارسی شعر گوئی سے کیا اور کلام کے تین حصے فارسی اور ایک حصہ اردو شاعری پر مبنی ہے۔میرزا نے فارسی شاعر بیدل کو تقلید کے لئے چنا ۔

"طرز بیدل میں ریختہ لکھنا

اسد اللہ خاں قیامت ہے”

پھر غالب نے شاعری کے دوسرے دور میں قدم رکھا ۔ یہاں اردو شعر کہتے ہوۓ فارسی کے الفاظ اردو شاعری کی دلکشی میں اضافہ کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ نازک خیالی بدستور موجود ہے۔مگر اس کے ساتھ ساتھ عقلیت ، معنویت، اور جذبہ کی شدت سر چڑ ھ کر بولتی ہے۔ غالب یہاں تنگناۓ غزل کو وسعت بخشتے نظر آتے ہیں ۔یہاں وہ کبھی تصوف میں پناہ ڈھونڈ تے ہیں ۔ تو کبھی مذہب میں امان تلاش کر تے ہیں ۔
کبھی یاسیت کے گہرے سمندر میں گرتے گرتے بچنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں ۔ اور کبھی خوابوں ہی خوابوں میں آرزوؤں کی جنت تلاش کرتے ہیں ۔ اس دور کی انفرادیت غالب کی بے چینی ہے ۔ وہ آسمان کی تلاش میں ضرور نکلے لیکن زمین نے انہیں خود سے جدا نہ کیا ۔ انہوں نے ولی بنا چاہا لیکن دنیا تمام تر رنگینوں کے ساتھ دامن گیر رہی

"یہ مسا ئل تصوف یہ ترا بیان غالب

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ با دہ خوار ہو تا”
-/
محبت کاروائتیی مضمون جب غالب کے قلم سے چھوتا ہے تو ایک ایسے شخص کی محبت بن جاتا ہے جو خوددار بھی ہے انا پرست بھی ۔ وہ افلاطونی محبت کا قائل نہیں ۔

"کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب ۔ غم بری بلا ہے

مجھے کیا بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہو تا”<<<<<<<<
t;<<<<<<
کو ندرت بیاں عطا کرتے دکھائی دیتے ہیں

"ذکر اس پری وِش کا اور پھر بیان اپناگیا رقیب آخر جو تھا رازداں اپنا "-وف کے کئی مضامین غالب کے کلام میں ملتے ہیں ۔

"جب تجھ بن نہیں کوئی موجودر یہ ہنگامہ ، اے خدا کیا ہے "ر یہ جب کلام کا حصہ بنتے ہیں توان میں بھی عقلیت اور معنویت کار فر ما ملتی ہے ۔

" نہ تھا کچھ تو خدا تھا،کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا-ویا مجھ کو ہونے نے ، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا "ہب کا تقدس درست مگر کیا کئجئے غالب شاعر بھی تو ہیں سخن کے بے تاج بادشاہ بھئ تو ہیں کہیں صداۓ ۔ دل بلند بھی ہو سکتی ہے ۔

"کیا وہ نمرود کی خدائی تھیدگی میں بھی مرا بھلا نہ ہوا"لب کے نامساعد حالات ، مالی تنگی ، اولاد کی پہ در پہ وفات نے شکوہ ان کے شعروں کا حصہ بنا یا ہر شاعر اپنے حالا ت کی پیدا وار ہو تا ہے ۔ شعر کی آمد کیا ہے ؟۔ خیالات اور سوچ کی زبان ۔ خیالا ت خود بخود بحر میں ڈھل کر ، الفاظ میں سج کر صفحہ ۔قر طاس پر بکھر نے لگتے ہیں تو غزل ہو جاتی ہے ۔ شعوری کوشیش شعر نہیں بن سکتی کیونکہ یہ ہمشہ' بے وزن '، بے رنگ ، بے بو ہو تی ہے ۔

"زندگی اپنی جو اس شکل سے گزری غالببھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے "عر وقت اور حا لات پر اظہار شعر کےپیراۓ میں کر تا ہے ۔لب کی شاعری کا تیسرا دور سادہ بیانی کا دور ہے ۔ تشبیہات اور استعارے کم سے کم برتے ۔ نظریہ ۔ حیات اور نفسیات۔انسانی کو سیدھے سادے پُر کار انداز میں پیش کیا ہے ۔ اسلوب ۔ بیان میں بے حد تازگی ہے۔ مضامین وہ ہیں جو بنی نوع انسان کے ساتھ روز ۔ ازل سے وابستہ ہیں اور آباد تک رہیں گے ۔<br<br<br<br
r
r
نہیں ہوں میں<br<br<br<br
br
نہیں ہوں میں "<br<br<br<br
br
ر غزل واردات۔ عشق کی روداد۔<br<br<br<br
ی سے بھر پور ہے ۔ یہ زندگی آمیز بھی ہے اور زندگی آموز بھی ۔ یہ زندگی سے بیزاری نہیں سکھاتی بلکہ زندگی بس ر کر نے کا سلیقہ سکھا تی ہے ۔اس میں جذبات کی بہت اہمیت ہے لیکن یہ تمام تر جذباتی نہیں اس میں روایت جے اثرات بھی ہیں لیکن روایتی ہونے سے اس کو تعلق نہیں ۔ اس میں فرد کی انفرادی کیفیات کی ترجمانی ہے لیکن اسکا سماجی پس ۔ منظر بھی ہے ۔ یہ اپنے زمانے کی پیداوار ہے ۔ اس میں بہت صاف ستھری فضاہے ۔ یہ بڑی شفاف ہے جیسے کوثر و تسنیم سے دھل کے نکلی ہو۔ یہ دلوں میں شمعیں سی فروزاں کرتی چلی جاتی ہے۔ اس میں فلسفیانہ زاویہ نظر کی جھلک ہے لیکن مفکرانہ آہنگ بھی ہے ۔اس میں پیچ و خم ہیں ، نشیب و فراز ہیں ۔یہ خاصی پہلو دار ہے۔ذہنی الجھنوں نے اس کا راستہ نہیں روکا۔ اسکی صورت مسخ نہیں کی۔اس کے غم کی بنیاد زندگی کو حسین دیکھنے کی تمناہے ۔<br<br<br<br
ت اور خود پسندی کا رنگ بہت نمایاں تھا۔

"وہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے ، ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں ؟
ہ ہم سے سر گراں کیوں ہو "
الب رجحان ہے ۔غالب کو غالب بنایا بھی اسی ادا نے ہے ۔میرزا نے جس پُر آشوب دور میں آنکھ کھولی وہاں ماحول حقیقت پسندی سے فر ار کا متقاضی تھا۔غالب بھی اگر عام فرد ہوتے تو مفاہمت کی راہ اختیار کر لیتے لیکن انہوں نے مشکلات کو آواز دی ۔ انکی مشکل پسندی کی ایک وجہ موروثی روایات بھی تھیں ۔میر زا کے آباء اجداد "ایبک "قوم کے ترک تھے۔ انکا سلسلہ نسب "تو رابن فریدوں "تک پہنچتا ہے جس کا تفصیلا ذکر پچھلے حصے میں ہو چکا۔لڑنا سلجوقی ترکوں کا پیشہ تھا ۔ میرزا غالب کا عہد آیا تو رزم کا میدان مشاعرے میں تبدیل ہو چکا تھا ۔میرزا کو شاعری سے کہیں زیادہ آباء اجداد کی سپہ گری پر ناز تھا ۔

باء سپہ گری

نہیں مجھے "

ڈالئیے تو ایک ٹیڑ ھی لکیر نظر آتی ہے ۔انہوں نے آلات و مصائب کا مقابلہ جوانمر دی سے کیا
ا
الب زندگی کی ہموار دائرہ کو چھوڑ کر پیچیدہ پگڈنڈی پر چلنے کے عادی تھے اور یہ ہی انداز شاعری میں بھی اپنایا ۔ اور پھر کمال یہ دکھایا مشکل گوئی سے سادہ بیانی کی طرف ہجرت کی ۔ "سہل ممتنع” کا انداز اپنایا

ب

کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی "

انفرادیت ان کا استفہامیہ لہجہ بھی ہے ۔استفہام سے شاعری کو نیا رنگ بخشا ۔

ہے

آخر اس درد کی دوا کیا ہے”

م کو انکاری رنگ بھی دیا

r>-
ں آتی”

۔۔۔۔۔۔۔۔

"بہت سہی غم ۔ گیتی ، شراب کیا کم ہے


ک
م ہے "

رنگین پُر کار اور پہلو دار ہے ۔غالب کے مزاج کی شوخی کلام پر بھی اثر انداز ہوئی ۔ انکی ذہانت کا ایک مظہر حاضر جوابی بھی تھی ۔کلام میں بھی ظریفانہ عناصر پاۓ جاتے ہیں ۔

ون ہے

کیا”

br>ا&

ا
p>

"میر زا غالب شخصیت اور فن ” ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کاہے انداز بیاں اور ”
—-

عبداللہ بیگ کے گھر میرزا سد اللہ خاں نے 27دسمبر1797میں آگرہ میں جنم لیا ۔ جب پانچ سال کے ہوۓ میرزا عبداللہ بیگ میدان جنگ میں گولی کا نشانہ بنے اور وفات پاگۓ۔پھر چچا نصراللہ بیگ کے زیر کفالت آگئے میرزا کے چچا آگرہ کے گورنر تھے ۔
غالب کے چچا نے بغیر لڑے آگرہ کا قلعہ انگریز لارڈ لیک کے حوالے کر دیااور اس طرح بدلے میں انگریز فوج میں چار سو سواروں کے ر سا لدار ہو گۓ۔
میرزا غالب چچا کے زیر کفالت آگۓ۔گھر پر ننھے اس اللہ کی تعلیم و تربیت کا بند وبست کیا گیا ۔ فارسی اور عربی کے استاد مقرر کیے گئے۔فارسی کے استاد کا تعلق ایران سے تھا لہذا اس استاد کی صحبت نے میرزا کے مذہبی عقائد پر بھی اثر ڈالا اور حب ۔ اہل بیت میں اضافہ ہوا ۔
کچھ عرصہ بعد اسد اللہ غالب کے چچا ہاتھی سے گر کے ہلاک ہو گئےان وقت میرزا کی عمر آٹھ برس ہو چکی تھی ۔ اور میرزا کے چچا کی وفات کے بعد چچا کے سالے نواب احمد بخش خان والی لو ہارو نے کم سن غالب کے لئیے انگریزوں کی پنشن جاری کروائی۔(یہ پنشین غالب کے چچا کی خدمات کا صلہ تھی)
اس سے میر زا کی گزر بسر ہو نے لگی ۔

میرزا کی عمر تیرہ سال ہو گئی آپ کی شادی 1810میں نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی میرزا الہی بخش معروف خاں کی بیٹی امرا ء بیگم سے ہو گئی شادی کے بعد میرزا دہلی منتقل ہو گئے
وہاں مستقل سکونت اختیار کی اور وفات تک مقیم رہے ۔
میرزا شادی کے بعد چاندنی چوک بلی ماروں کے محلے میں ایک حویلی کر آۓ پر لے کر رہنے لگے ۔ شروع میں اسد تخلص رکھا پھر اسی نام کے ایک اور شاعر منظر پر آۓ تو غالب تخلص رکھ لیا ۔ غالب نے آگرہ میں کچھ وقت اپنے سسر کے زیر شفقت بھی گزارا جن سے غالب کی شاعری کے رجحان کو جلا ملی ۔سسر کے مشورے پر تخلص بدلا اور شراب نوشی کی لت بھی سسر سے پڑی جو کہ تاعمر نہ چھوٹ سکی ۔ دلی منتقل ہو نے کے بعد اخرا جا ت بڑھ گئے دو مستقل نوکر کام کاج کی غرض سے گھر میں رکھے ہوۓ تھے ۔ روزگار کا کوئی سلسلہ نہ تھا ایک پنشن کا سہارا تھا وہ بھی کچھ وجوہات کی بنا پر ملنا بند ہو گئی ۔ اب قر ضہ چڑ ھنے لگا مالی حالات بد تر ہو نے لگے اس دوران میں امراء بیگم کے ہاں بچے کی پیدائش ہو ئی جو چند سانسیں لے کر ملک ۔ راہی عدم ہوا ۔ پر یشانیوں نے غالب کو گھیر لیا ۔

"رنج سے خو گر ہو انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں مجھ پہ پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں ”

غالب دن بھر شعر لکھتے اور رات بھر شراب پیتے ۔ایک عجیب عادت تھی میرزا کی ۔شعر کہتے جاتے اور رومال پر گرہ لگاتے جاتےپھر شراب پیتے پیتے سو جاتے اور ایسا کمال کا حافظہ پایا تھا کہ صبح بیدار ہو نے کے بعد گرہ کھولتے جاتے مصرعے لکھتے جاتے ۔ دیوان مکمل کر کے کتابت کروایا اور آگرہ بھجا تو ہر ناشر نے چھاپنے سے انکار کردیا میر زا کا شاعرانہ انداز معاصر ین کے لئے ناقابل قبول تھا ۔جس پر میرزا بولے !

"گر نہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی”

غالب نے لفظوں سے کھیل کر تخیلاتی تصویریں بنائی ۔غالب نے خالص اردو لغت کا سہارا لیا۔ غالب کی شخصیت اور فن کثیر الجہتی ہے۔ان کی انفرادیت اور عظمت اتنے پہلوؤں میں جلوہ گر ہوئی ہے کہ اس کا احاطہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں ۔
غالب نے اپنی فنی زندگی کا آغاز فارسی شعر گوئی سے کیا اور کلام کے تین حصے فارسی اور ایک حصہ اردو شاعری پر مبنی ہے۔میرزا نے فارسی شاعر بیدل کو تقلید کے لئے چنا ۔

"طرز بیدل میں ریختہ لکھنا

اسد اللہ خاں قیامت ہے”

پھر غالب نے شاعری کے دوسرے دور میں قدم رکھا ۔ یہاں اردو شعر کہتے ہوۓ فارسی کے الفاظ اردو شاعری کی دلکشی میں اضافہ کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ نازک خیالی بدستور موجود ہے۔مگر اس کے ساتھ ساتھ عقلیت ، معنویت، اور جذبہ کی شدت سر چڑ ھ کر بولتی ہے۔ غالب یہاں تنگناۓ غزل کو وسعت بخشتے نظر آتے ہیں ۔یہاں وہ کبھی تصوف میں پناہ ڈھونڈ تے ہیں ۔ تو کبھی مذہب میں امان تلاش کر تے ہیں ۔
کبھی یاسیت کے گہرے سمندر میں گرتے گرتے بچنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں ۔ اور کبھی خوابوں ہی خوابوں میں آرزوؤں کی جنت تلاش کرتے ہیں ۔ اس دور کی انفرادیت غالب کی بے چینی ہے ۔ وہ آسمان کی تلاش میں ضرور نکلے لیکن زمین نے انہیں خود سے جدا نہ کیا ۔ انہوں نے ولی بنا چاہا لیکن دنیا تمام تر رنگینوں کے ساتھ دامن گیر رہی

"یہ مسا ئل تصوف یہ ترا بیان غالب

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ با دہ خوار ہو تا”
-/
محبت کاروائتیی مضمون جب غالب کے قلم سے چھوتا ہے تو ایک ایسے شخص کی محبت بن جاتا ہے جو خوددار بھی ہے انا پرست بھی ۔ وہ افلاطونی محبت کا قائل نہیں ۔

"کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب ۔ غم بری بلا ہے

مجھے کیا بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہو تا”<<<<<<<<<<<<
t;<<<<<<<<<
رت بیاں عطا کرتے دکھائی دیتے ہیں

"ذکر اس پری وِش کا اور پھر بیان اپناگیا رقیب آخر جو تھا رازداں اپنا "-وف کے کئی مضامین غالب کے کلام میں ملتے ہیں ۔

"جب تجھ بن نہیں کوئی موجودر یہ ہنگامہ ، اے خدا کیا ہے "ر یہ جب کلام کا حصہ بنتے ہیں توان میں بھی عقلیت اور معنویت کار فر ما ملتی ہے ۔

" نہ تھا کچھ تو خدا تھا،کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا-ویا مجھ کو ہونے نے ، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا "ہب کا تقدس درست مگر کیا کئجئے غالب شاعر بھی تو ہیں سخن کے بے تاج بادشاہ بھئ تو ہیں کہیں صداۓ ۔ دل بلند بھی ہو سکتی ہے ۔

"کیا وہ نمرود کی خدائی تھیدگی میں بھی مرا بھلا نہ ہوا"لب کے نامساعد حالات ، مالی تنگی ، اولاد کی پہ در پہ وفات نے شکوہ ان کے شعروں کا حصہ بنا یا ہر شاعر اپنے حالا ت کی پیدا وار ہو تا ہے ۔ شعر کی آمد کیا ہے ؟۔ خیالات اور سوچ کی زبان ۔ خیالا ت خود بخود بحر میں ڈھل کر ، الفاظ میں سج کر صفحہ ۔قر طاس پر بکھر نے لگتے ہیں تو غزل ہو جاتی ہے ۔ شعوری کوشیش شعر نہیں بن سکتی کیونکہ یہ ہمشہ' بے وزن '، بے رنگ ، بے بو ہو تی ہے ۔

"زندگی اپنی جو اس شکل سے گزری غالببھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے "عر وقت اور حا لات پر اظہار شعر کےپیراۓ میں کر تا ہے ۔لب کی شاعری کا تیسرا دور سادہ بیانی کا دور ہے ۔ تشبیہات اور استعارے کم سے کم برتے ۔ نظریہ ۔ حیات اور نفسیات۔انسانی کو سیدھے سادے پُر کار انداز میں پیش کیا ہے ۔ اسلوب ۔ بیان میں بے حد تازگی ہے۔ مضامین وہ ہیں جو بنی نوع انسان کے ساتھ روز ۔ ازل سے وابستہ ہیں اور آباد تک رہیں گے ۔<br<br<br<br<br<br
r
r
<br<br<br<br<br<br
br
"<br<br<br<br<br<br
br
۔ عشق کی روداد۔<br<br<br<br<br<br
ہے ۔ یہ زندگی آمیز بھی ہے اور زندگی آموز بھی ۔ یہ زندگی سے بیزاری نہیں سکھاتی بلکہ زندگی بس ر کر نے کا سلیقہ سکھا تی ہے ۔اس میں جذبات کی بہت اہمیت ہے لیکن یہ تمام تر جذباتی نہیں اس میں روایت جے اثرات بھی ہیں لیکن روایتی ہونے سے اس کو تعلق نہیں ۔ اس میں فرد کی انفرادی کیفیات کی ترجمانی ہے لیکن اسکا سماجی پس ۔ منظر بھی ہے ۔ یہ اپنے زمانے کی پیداوار ہے ۔ اس میں بہت صاف ستھری فضاہے ۔ یہ بڑی شفاف ہے جیسے کوثر و تسنیم سے دھل کے نکلی ہو۔ یہ دلوں میں شمعیں سی فروزاں کرتی چلی جاتی ہے۔ اس میں فلسفیانہ زاویہ نظر کی جھلک ہے لیکن مفکرانہ آہنگ بھی ہے ۔اس میں پیچ و خم ہیں ، نشیب و فراز ہیں ۔یہ خاصی پہلو دار ہے۔ذہنی الجھنوں نے اس کا راستہ نہیں روکا۔ اسکی صورت مسخ نہیں کی۔اس کے غم کی بنیاد زندگی کو حسین دیکھنے کی تمناہے ۔<br<br<br<br<br<br
دی کا رنگ بہت نمایاں تھا۔

"وہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے ، ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں ؟
یوں ہو "
ب کو غالب بنایا بھی اسی ادا نے ہے ۔میرزا نے جس پُر آشوب دور میں آنکھ کھولی وہاں ماحول حقیقت پسندی سے فر ار کا متقاضی تھا۔غالب بھی اگر عام فرد ہوتے تو مفاہمت کی راہ اختیار کر لیتے لیکن انہوں نے مشکلات کو آواز دی ۔ انکی مشکل پسندی کی ایک وجہ موروثی روایات بھی تھیں ۔میر زا کے آباء اجداد "ایبک "قوم کے ترک تھے۔ انکا سلسلہ نسب "تو رابن فریدوں "تک پہنچتا ہے جس کا تفصیلا ذکر پچھلے حصے میں ہو چکا۔لڑنا سلجوقی ترکوں کا پیشہ تھا ۔ میرزا غالب کا عہد آیا تو رزم کا میدان مشاعرے میں تبدیل ہو چکا تھا ۔میرزا کو شاعری سے کہیں زیادہ آباء اجداد کی سپہ گری پر ناز تھا ۔

>
r>-
ٹیڑ ھی لکیر نظر آتی ہے ۔انہوں نے آلات و مصائب کا مقابلہ جوانمر دی سے کیا
ا
ہموار دائرہ کو چھوڑ کر پیچیدہ پگڈنڈی پر چلنے کے عادی تھے اور یہ ہی انداز شاعری میں بھی اپنایا ۔ اور پھر کمال یہ دکھایا مشکل گوئی سے سادہ بیانی کی طرف ہجرت کی ۔ "سہل ممتنع” کا انداز اپنایا

گلہ کرے کوئی "

کا استفہامیہ لہجہ بھی ہے ۔استفہام سے شاعری کو نیا رنگ بخشا ۔

کی دوا کیا ہے”

رنگ بھی دیا

; t;-
۔
سہی غم ۔ گیتی ، شراب کیا کم ہے

r>-
اور پہلو دار ہے ۔غالب کے مزاج کی شوخی کلام پر بھی اثر انداز ہوئی ۔ انکی ذہانت کا ایک مظہر حاضر جوابی بھی تھی ۔کلام میں بھی ظریفانہ عناصر پاۓ جاتے ہیں ۔

;–
r
; –
ا
;

ذاپختونیم 

پٹھان ایک قوم ہے اور پشتو ایک زبان ۔ پشتو افغانسان میں اور پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ میں بولی جا تی ہے ہر پشتو بولنے والا انسان پٹھان نسل سے نہیں ہے یہ ایک زبان ہے جیسے پنجابی ایک زبان ہے اور اس کے بولنے والے سید بھی ہیں مرزا بھی ہیں جاٹ گجر اور راج پوت بھی ہیں اسی طرح سے پشتو بولنے والے افراد قوم کے اعتبار سے ذات کے لحاظ سے سید بھی ہیں گجر بھی ہیں ملک بھی ہیں اور بھی کئی ذاتوں سے ہیں 
ایک غلط فہمی جو کہ رائج ہو چکی ہے کہ ہر پشتو بولنے والا پٹھان ہے بالکل غلط ہے پٹھان پنجابی بھی ہیں اردو اسپیکنگ بھی ہیں اس کی وضاحت کے لئے میں آپ کو تاریخ سے حوالے دونگی 

1005قبل مسیح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اصل پٹھان اپنا نام  و نسب افغان ابن  یر میاہ ابن طالوت سے منسوب کرتے ہیں جو حضرت سلیمان کا سپاہ سالار اور ان کے ہیکل کا معمار تھا
ایک دوسری رویت کے مطابق حضرت سلیمان کے بیٹے کا نام افغان تھا اس کی نسل سے یہ قوم چلی پٹھان حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق کی اولاد میں سے ہیں اس لئیے انکے قبائلی ناموں میں بھی یہ ذکر ہے 
یوسف زئی قبیلہ حضرت یوسف کی نسل سے ہے 

بنی اسرائیل کو اسلامی تاریخ میں ایک خاص مقام حاصل رہا ہے امت محمدیہ سے پہلے افضل اللمین ہو نے کی فضیلت بھی بنی اسرائیل کو حاصل رہی

600قبل مسیح 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پٹھان یہودی انسل ہیں اور انکا تعلق بنی اسرائیل کے قبائل سے ہیں بخت نصر نے ان کے آباءواجداد کو فلسطین سے نکال دیا تھا اور فارس میں آباد کر دیا 
یہاں سے وہ آہستہ آہستہ غور کے پہاڑوں یعنی ہرات اور مو جو دہ ہزارہ جات کی طرف ہجرت کر گئے 

اور اسی ہجرت کے دوران ایرانیوں کے ساتھ وسیع پیمانے پہ ان کا اختلاط ہوا
اور یہ لوگ آباد ہو گئے ہندوستان والے ان کو پٹھان پاکستانی پٹھان اور پشتوں اور ایرانی افغان کہتے ہیں یہ اس وقت متعدد قبائل کا مجموعہ ہیں اور پاکستان کے مختلف حصوں میں آباد ہیں انکی ایک بڑی تعداد بلوچستان میں بھی آباد ہے 

327قبل مسیح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

327قبل مسیح میں سکندر اعظم نے ہندوستان پہ حملہ کیا اس زمانے میں آفریدی جو کہ پٹھانوں کا قبیلہ ہے یہ کوہ سفید کے باسی تھے
خٹک کوہ سلیمان اور دریا سندھ کے اطراف میں آباد تھے
ڈاڈیکئی صوبہ قندھار اور پشاور میں مقیم تھے

ساتویں صدی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام کا ظہور ہو چکا ہے حضرت محمد صل الہ علیہ وآلہ وسلم نبوت کا اعلان کر چکے ہیں آپ عرب قبیلہ قریش کے ایک سردار خالد بن ولید کو داعی اسلام کی حیثیت سے اور دعوت اسلام دیتے ہیں قبیلہ اسلام قبول کر تا ہے یاد رہے یہ بنی اسرائیل ہو نے ک باعث دین موسی پہ ہیں گویا کافر نہن پٹھان دنیا کی وہ واحد قوم ہے جو کبھی لا دین نہن تھی یہ اسلام سے قبل بھی اللہ کو مانتے تھے مشرک نہن تھے اب قبیلہ کے سردار نے خالد بن ولید کی بیٹی سے شادی کی اور حضرت محمد نے ان کو پٹھان کا لقب دیا جس کا مطلب ایک ایسی سخت لکڑی ہے جس کو توڑا نہ جا سکے ساتھ پیشن گوئی بھی کی کہ یہ ایک ایسی قوم بنے گے جس ک کوئی شکست نہ دے سکے گا چنانچہ عربوں سے اختلاط ہوا

آٹھویں صدی
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس صدی میں پٹھان عرب خلیفہ کے  جھنڈے تلے جمع ہوۓ جن میں ترین ابدالی اور شیرانی شامل ہیں اور یوسف زئی مہمند گگیانی   تر کانڑی۔  داؤد زئی خلیل محمد زئی اور شنواری شامل ہیں 

پندرہویں صدی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پندرہویں صدی کے آغاز میں لودھی قبیلہ اور نیازی قبیلہ غزنی سے چلا اور ٹانک میں رہائش اختیار کی انکی غرض آمد تجارت تھی 
اس زمانے میں ہندوستان میں گھوڑوں کی بہت مانگ تھی

لودھی
۔۔۔۔۔۔۔
اب لودھی ہندوستان میں طاقت حاصل کر نے لگے تو اقتدار میں آگئے اس پٹھانی قبیلے نے سید خاندان سے اقتدار چھینا اور دہلی کے تخت کے پہ حکومت کر نے لگے 

بہلول لودھی سکندر لودھی ابراہیم لودھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بہلول لودھی کے دور میں غزنی اور قلات سے پٹھان قبائل کی آمد ہوئی بہلول کے بعد سکندر بادشاہ بنا اور سکندر کے بعد ابراہیم 
ابراہیم لودھی ایک کمزور بادشاہ ثابت ہوا مغل پٹھانوں میں پھوٹ ڈالنے میں کامیاب ہو گئے اور اقتدار پہ قابض ہو گئے اب یہ قبائل مستقل بنیادوں پہ ہندوستان میں آباد ہو گئے رفتہ رفتہ پنجابی اور اردو زبان تہذیب کا حصہ بن گئے رسم رواج اور وضع قطع بھی مقامی لو گوں جیسی ہو تی چلی گئی جب پاکستان بنا تو جالندھر لدھیانہ گورداسپور  ہو شیار  پور دیگر اور کئی علاقوں سی یہ پٹھان جو کہ پنجابی پٹھان اور اردو پٹھان کی حیثیت سے پاکستان ہجرت کر گئے پٹھانوں کی ایک خاص رسم جس کے مطابق یہ غیر پٹھان میں رشتہ داری نہن کرتے نے انکا جداگانہ وجود قائم رکھا ہوا ہے زبان متروک ہونے کے باوجود مخصوص خاندانی عادات آج بھی ان کے مزاج کا حصہ ہیں 
قومیں اللہ تعالی نے انسانوں کی پہچان کے لئے بنائی ہیں ہمارے مذہب اسلام میں یہی تعلیم دی گئ ہے 

مذکورہ بالا آرٹیکل اسی ضمن کی ایک کاوش ہے 

نادیہ عنبر لودھی کے قلم سے

اولڈ ھم اردو نیوز انگلینڈ میں لکھا گیا ایک کالم

چاک ہستی رفوُ کیا کرتے
خواب سی آرزو کیا کرتے

پاکستان اور ہندوستان ایک طویل عرصہ بر صیغر کی شکل میں دنیا کے نقشے پہ یکجا رہے ہیں۔دونوں مملک کی خواتین کی ایک بڑی تعداد بے شمار مسائل کا شکار ہے ۔ پاکستانی خواتین کو جن مسائل کا سامنا ہے ۔ آس میں کم عمری کی شادی،صنفی امتیاز،غذائی قلت،تیزاب گردی،طبی سہولیات کا فقدان ،دوران زچگی اموات،گھریلو تشدد،غیرت کے نام پہ قتل،ریپ اور تنگ نظری شامل ہے۔شخصی آزادی کا تصور ہمارے معاشرے میں نا پید ہے۔عورتوں کو زیادہ تر دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا تا ہے۔ایک اندازے کے مطابق جہیز کے نام پہ سب سے زیادہ قتل ،تشدد اور خواتین کو زندہ جلانے کا واقعات پاکستان اور ہندو ستان میں ہو تے ہیں۔پاکستان کی 70فی صد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔نچلے طبقے کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے اور مراعات یافتہ طبقے میں بھی ایسی مثالیں دیکھنے میں آتی ہیں ۔بظاہر ناخواندہ طبقہ