وحشت اس سے بڑھ کر اور کیا
سزا دینے والوں کو خبر نہن
ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں۔اس کی جارحانہ سوچ اور اختلاف رائے کبھی کبھی اس شدت سے سامنے آتا ہے کہ ایک جیتا جاگتا انسانی وجود موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔اور ایسے واقعہ کو غیرت کا نام دے دیا جاتا ہے۔اس کی ایک تازہ مثال ماڈل قندیل بلوچ کا قتل ہے۔قندیل بلوچ کی آزادانہ روش کو ہم میں سے بہت سے لوگ نا پسند کرتے ہو نگے۔لیکن ناپسندیدگی کا مطلب قتل تو نہن ہو تا ۔ہم ایک مہذب گلوبل ولیج کا حصہ ہیں ایسا کوئ فعل کیسے کر سکتے ہیں ہم میں سے کسی انسان کے پاس یہ اختیار نہن کہ وہ کسی انسان کو سزا دے سکے۔
اس اسلامی ملک پاکستان کی بنیاد اسلام پہ رکھی گئ جو کہ امن اور آتشی کا مذہب ہے بھائ چارے کا حکم دیتا ہے درگزر کی تر غیب دیتا ہے پردہ پوشی پہ زور دیتا ہے ۔ایک ایسا مذہب جس میں حا لت جنگ میں بھی خواتین بچوں اور بوڑھوں پہ ہاتھ اٹھانے سے منع کیا گیا ۔املاک کو نقصان پہنچانے سے روکا گیا۔فتح مکہ کے بعد تاریخ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ہر دشمن کو معاف کر دیا گیا۔ایسے مذہب کے پیروکار عورتوں کے قتل کو غیرت کا نام کیسے دے سکتے ہیں۔کسی کا ذاتی فعل اگر نا پسند ہے تو اس کی اصلاح کی جانی چاہئیے نہ کہ قتل۔
ہر انسان اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔ ہم کسی انسان کے افعال پہ پابندی نہن لگا سکتے لیکن قتل جیسے بیہما نہ فعل کو انجا م دینے کا ہمارے پاس کوئ جواز نہن۔ہم لوگ انسانیت کے علم بردار کہلانے کا شوق تو بہت رکھتے ہیں لیکن ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے عملی قدم نہن اٹھا تے ۔اصل تبدیلی لوگوں میں شعور پیدا کر نے سے آئے گی ۔تعلیم کو عام کر نے سے آئے گی۔قندیل بلوچ کے ذاتی اعمال سے میں متفق نہن ۔اس کی آزادانہ روش کو درست بھی قرار نہن دیا جا سکتا۔لیکن اس کی سزا موت نہن۔ہم کسی انسان کی زندگی لینے کا اختیار نہن رکھتے۔نہ تو معاشرہ اور نہ مذہب ایسا کوئ حق ہمیں دیتا ہے۔ہمارے معاشرے کی بے شمار خواتین کو ہر سال غیرت کے نام پہ قتل کر دیا جاتا ہے۔کیا دور نبوی میں کوئ ایک مثال ایسی ملتی ہے کہ جس میں غیرت کے نام پہ عورت کو قتل کیا جائے۔اسکے بعد دور خلافت پھر مسلمانوں کے عروج کا زمانہ۔ کسی زمانے میں ایسی کو ئ مثال نہن ملتی ۔آج کے زمانے میں اس قبیح فعل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے آخر معاشرے کا ہر ظلم عورت کے حصے میں کیوں؟ مردوں کو غیرت کے نام پہ قتل کیوں نہن کیا جا تا۔
وہی ازلی مجبوریاں وہی دائمی زنجیریں 
دور حاضر کی عورت بھی پابند سلاسل ہے
نادیہ عنبر لو دھی
اسلام آباد پاکستان 

Advertisements

One thought on “اور قندیل بجھ گئ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s