میرزا غالب کا زمانہ سیاسی حوالے سے بہت ہی مخدوش تھا ۔مغلیہ دور ۔ مسلمانوں کی حکومت کی جان بلب سانسیں تھیں ۔بہادر شاہ ظفر کو دلی کے تخت پر بٹھایا گیا تو اختیارات نہ ہو نے کے برابر دیے گئے ۔ بہادر شاہ ظفر بہت کشادہ دل اور اہل کمال کے قدردان بادشاہ تھے ۔خود بھی بہت اچھے شاعر تھے ۔شاعروں کو خوب نوازتے ۔ابراہیم ذوق آپ کے استاد تھے لہذا استاد ذوق کے لقب سے بلاۓ جاتے ۔ بہادر شاہ ظفر نے شاعری میں لا جواب کمالات دکھاۓ اور بے شمار اشعار کہے ۔۔
کہتے ہیں

"یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا

یا میرا تاج گدا یانہ بنایا ہو تا ”
مومن خاں مومن
مومن خاں مومن استاد ذوق کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے چونکہ ذوق بادشاہ اور شہزادوں کے اشعار کی اصلاح دینے پر تعینات تھے ۔

 

استاد ذوق
مرزا غالب

بہادر شاہ ظفر نے ان کو "خاقانی ۔ہند” کا خطاب دے رکھا تھا ۔ شاہی محل میں انکا طوطی بولتا۔
بہادر شاہ ظفر قلعے میں محفل مشاعرہ منعقد کرواتے جس میں اس زمانے کے شعرا ذوق ،مومن ، ،آزردہ ،شیفتہ صحفی اور آتش مشہور ہوۓ ۔دلی میں بسنے والے قلعے کے مشاعروں میں جاتے اور داد و انعام پاتے ۔غالب بھی غزل سنانے گئے لیکن استاد ذوق کے حامیوں نے غالب کے پاؤں جمنے نہیں دیے ۔لگے پھبتیاں کسنے ۔ غالب کی انا کو گوارہ نہ ہوا ۔ ناراض ہو کر چل دیے ۔ دوبارہ نہ جانے کہ ٹھانی ۔ اس دوران غالب کی پینشن بند ہو گئی ۔ گھر پر دو ملازم، بیگم اور خرچ کے ساتھ ساتھ چھوٹے بھائی میرزا یوسف کی علالت (ذہنی توازن خراب ہو گیا تھا) کے باعث انکے تین بچوں اور بیوی کی ذمہ داری بھی آن پڑی ۔ روزگار تھا نہیں ۔ ادھار کے باعث بد نامی الگ ہورہی تھی ۔ مختصر یہ کہ حالت بہت دگرگوں تھے

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s