ذاپختونیم 

پٹھان ایک قوم ہے اور پشتو ایک زبان ۔ پشتو افغانسان میں اور پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ میں بولی جا تی ہے ہر پشتو بولنے والا انسان پٹھان نسل سے نہیں ہے یہ ایک زبان ہے جیسے پنجابی ایک زبان ہے اور اس کے بولنے والے سید بھی ہیں مرزا بھی ہیں جاٹ گجر اور راج پوت بھی ہیں اسی طرح سے پشتو بولنے والے افراد قوم کے اعتبار سے ذات کے لحاظ سے سید بھی ہیں گجر بھی ہیں ملک بھی ہیں اور بھی کئی ذاتوں سے ہیں 
ایک غلط فہمی جو کہ رائج ہو چکی ہے کہ ہر پشتو بولنے والا پٹھان ہے بالکل غلط ہے پٹھان پنجابی بھی ہیں اردو اسپیکنگ بھی ہیں اس کی وضاحت کے لئے میں آپ کو تاریخ سے حوالے دونگی 

1005قبل مسیح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اصل پٹھان اپنا نام  و نسب افغان ابن  یر میاہ ابن طالوت سے منسوب کرتے ہیں جو حضرت سلیمان کا سپاہ سالار اور ان کے ہیکل کا معمار تھا
ایک دوسری رویت کے مطابق حضرت سلیمان کے بیٹے کا نام افغان تھا اس کی نسل سے یہ قوم چلی پٹھان حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق کی اولاد میں سے ہیں اس لئیے انکے قبائلی ناموں میں بھی یہ ذکر ہے 
یوسف زئی قبیلہ حضرت یوسف کی نسل سے ہے 

بنی اسرائیل کو اسلامی تاریخ میں ایک خاص مقام حاصل رہا ہے امت محمدیہ سے پہلے افضل اللمین ہو نے کی فضیلت بھی بنی اسرائیل کو حاصل رہی

600قبل مسیح 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پٹھان یہودی انسل ہیں اور انکا تعلق بنی اسرائیل کے قبائل سے ہیں بخت نصر نے ان کے آباءواجداد کو فلسطین سے نکال دیا تھا اور فارس میں آباد کر دیا 
یہاں سے وہ آہستہ آہستہ غور کے پہاڑوں یعنی ہرات اور مو جو دہ ہزارہ جات کی طرف ہجرت کر گئے 

اور اسی ہجرت کے دوران ایرانیوں کے ساتھ وسیع پیمانے پہ ان کا اختلاط ہوا
اور یہ لوگ آباد ہو گئے ہندوستان والے ان کو پٹھان پاکستانی پٹھان اور پشتوں اور ایرانی افغان کہتے ہیں یہ اس وقت متعدد قبائل کا مجموعہ ہیں اور پاکستان کے مختلف حصوں میں آباد ہیں انکی ایک بڑی تعداد بلوچستان میں بھی آباد ہے 

327قبل مسیح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

327قبل مسیح میں سکندر اعظم نے ہندوستان پہ حملہ کیا اس زمانے میں آفریدی جو کہ پٹھانوں کا قبیلہ ہے یہ کوہ سفید کے باسی تھے
خٹک کوہ سلیمان اور دریا سندھ کے اطراف میں آباد تھے
ڈاڈیکئی صوبہ قندھار اور پشاور میں مقیم تھے

ساتویں صدی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام کا ظہور ہو چکا ہے حضرت محمد صل الہ علیہ وآلہ وسلم نبوت کا اعلان کر چکے ہیں آپ عرب قبیلہ قریش کے ایک سردار خالد بن ولید کو داعی اسلام کی حیثیت سے اور دعوت اسلام دیتے ہیں قبیلہ اسلام قبول کر تا ہے یاد رہے یہ بنی اسرائیل ہو نے ک باعث دین موسی پہ ہیں گویا کافر نہن پٹھان دنیا کی وہ واحد قوم ہے جو کبھی لا دین نہن تھی یہ اسلام سے قبل بھی اللہ کو مانتے تھے مشرک نہن تھے اب قبیلہ کے سردار نے خالد بن ولید کی بیٹی سے شادی کی اور حضرت محمد نے ان کو پٹھان کا لقب دیا جس کا مطلب ایک ایسی سخت لکڑی ہے جس کو توڑا نہ جا سکے ساتھ پیشن گوئی بھی کی کہ یہ ایک ایسی قوم بنے گے جس ک کوئی شکست نہ دے سکے گا چنانچہ عربوں سے اختلاط ہوا

آٹھویں صدی
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس صدی میں پٹھان عرب خلیفہ کے  جھنڈے تلے جمع ہوۓ جن میں ترین ابدالی اور شیرانی شامل ہیں اور یوسف زئی مہمند گگیانی   تر کانڑی۔  داؤد زئی خلیل محمد زئی اور شنواری شامل ہیں 

پندرہویں صدی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پندرہویں صدی کے آغاز میں لودھی قبیلہ اور نیازی قبیلہ غزنی سے چلا اور ٹانک میں رہائش اختیار کی انکی غرض آمد تجارت تھی 
اس زمانے میں ہندوستان میں گھوڑوں کی بہت مانگ تھی

لودھی
۔۔۔۔۔۔۔
اب لودھی ہندوستان میں طاقت حاصل کر نے لگے تو اقتدار میں آگئے اس پٹھانی قبیلے نے سید خاندان سے اقتدار چھینا اور دہلی کے تخت کے پہ حکومت کر نے لگے 

بہلول لودھی سکندر لودھی ابراہیم لودھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بہلول لودھی کے دور میں غزنی اور قلات سے پٹھان قبائل کی آمد ہوئی بہلول کے بعد سکندر بادشاہ بنا اور سکندر کے بعد ابراہیم 
ابراہیم لودھی ایک کمزور بادشاہ ثابت ہوا مغل پٹھانوں میں پھوٹ ڈالنے میں کامیاب ہو گئے اور اقتدار پہ قابض ہو گئے اب یہ قبائل مستقل بنیادوں پہ ہندوستان میں آباد ہو گئے رفتہ رفتہ پنجابی اور اردو زبان تہذیب کا حصہ بن گئے رسم رواج اور وضع قطع بھی مقامی لو گوں جیسی ہو تی چلی گئی جب پاکستان بنا تو جالندھر لدھیانہ گورداسپور  ہو شیار  پور دیگر اور کئی علاقوں سی یہ پٹھان جو کہ پنجابی پٹھان اور اردو پٹھان کی حیثیت سے پاکستان ہجرت کر گئے پٹھانوں کی ایک خاص رسم جس کے مطابق یہ غیر پٹھان میں رشتہ داری نہن کرتے نے انکا جداگانہ وجود قائم رکھا ہوا ہے زبان متروک ہونے کے باوجود مخصوص خاندانی عادات آج بھی ان کے مزاج کا حصہ ہیں 
قومیں اللہ تعالی نے انسانوں کی پہچان کے لئے بنائی ہیں ہمارے مذہب اسلام میں یہی تعلیم دی گئ ہے 

مذکورہ بالا آرٹیکل اسی ضمن کی ایک کاوش ہے 

Advertisements

نادیہ عنبر لودھی کے قلم سے

اولڈ ھم اردو نیوز انگلینڈ میں لکھا گیا ایک کالم

چاک ہستی رفوُ کیا کرتے
خواب سی آرزو کیا کرتے

پاکستان اور ہندوستان ایک طویل عرصہ بر صیغر کی شکل میں دنیا کے نقشے پہ یکجا رہے ہیں۔دونوں مملک کی خواتین کی ایک بڑی تعداد بے شمار مسائل کا شکار ہے ۔ پاکستانی خواتین کو جن مسائل کا سامنا ہے ۔ آس میں کم عمری کی شادی،صنفی امتیاز،غذائی قلت،تیزاب گردی،طبی سہولیات کا فقدان ،دوران زچگی اموات،گھریلو تشدد،غیرت کے نام پہ قتل،ریپ اور تنگ نظری شامل ہے۔شخصی آزادی کا تصور ہمارے معاشرے میں نا پید ہے۔عورتوں کو زیادہ تر دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا تا ہے۔ایک اندازے کے مطابق جہیز کے نام پہ سب سے زیادہ قتل ،تشدد اور خواتین کو زندہ جلانے کا واقعات پاکستان اور ہندو ستان میں ہو تے ہیں۔پاکستان کی 70فی صد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔نچلے طبقے کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے اور مراعات یافتہ طبقے میں بھی ایسی مثالیں دیکھنے میں آتی ہیں ۔بظاہر ناخواندہ طبقہ 

نادیہ عنبر لودھی کے قلم سے
"خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر”

پاکستان کی سر زمین شعر وسخن کے حوالے سے بے حد شاداب ہے۔ستر کی دہائ میں خوشبو سے متعارف ہو نے والی پروین شاکر نے اپنے شعری سفر کا آغاز کیا۔پروین شاکر نے 24نومبر 1952 میں ادبی خانوادہ میں آنکھ کھو لی۔آپ کے والد سید شاکر حسن اور نانا عسکری حسن اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے۔ریڈیو پاکستان پہ پروگرامز میں حصہ لیا درس وتدر یس کے شعبے سے وابستہ رہی پھر بعد میں سر کاری ملازمت اختیار کر لی۔شاعری میں احمد ندیم قاسمی کی سر پرستی حاصل رہی۔آپ کا کلام انکے رسالہ فنون میں شائع ہو تا رہا۔1976میں پہلا شعری مجموعہ "خوشبو”کے نام سے منظر عام پہ آیا۔اس کے بعد صد برگ،خود کلامی،انکار،ماہ تمام اور کف آئینہ شائع ہوئے۔
پروین کی شاعری کلا سیکل اور جددیت کا حسین امتزاج ہے رومانوی منظر نامہ ہجر و فراق،وصال یار،اداسی اور آرزوؤں کا عکس ہے۔پروین کی شاعری نسوانی جذبات سے مالا مال ہے وہ نسوانی پندار کا بھی خیال رکھتی ہیں اور بے باکانہ انداز بھی اپنا تی ہیں۔ پروین کے قلم نے پاکستانی عورت کو باہمت سوچ دی اظہار رائے کی آزادی سے روشناس کر وایا۔پروین کی شاعری کا فسوںُ پڑھنے والے کو اپنی گر فت میں لے لیتا ہے۔ایک ایسی تصوراتی دنیا جہاں محبوب کی بے اعتنائ بھی ہے اور پزیرائی بھی۔

"سب سے نظر بچاکے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا

ایک دفعہ تو رک ُگئ گردش ماہ سال بھی”

"شام کی ناسمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا

موج۔ ہوائےکوئےیار ،کچھ تو مرا خیال بھی”

پروین شاکر کی شاعری ان کے اپنے جذبات کی دلی واردات ہے۔ذاتی احساسات کا تال میل ہے۔ جو کبھی درد بن جاتا ہے کبھی دوا۔

"دو گھڑی میسر ہو اسُ کا ہم سفر ہونا

پھر ہمیں گوارا ہے اپنا در بدر ہونا

اک عذاب ۔پیہم ہے ایسے دور وحشت میں

زندگی کے چہرے پہ اپنا چشم تر ہو نا

اب تو اس کے چہرے میں بے پناہ چہرے ہیں

کیا عجیب نعمت تھی ورنہ بے خبر ہو نا

سوچ کے پرندوں کو اک پناہ دیتا ہے

دھوپ کی حکومت میں ذہن کا شجر ہو نا

اس کے وصل کی ساعت ہم پہ آئ تو جانا

کس گھڑی کو کہتے ہیں خواب میں
بسر ہونا”
۔۔۔۔۔

انہیں دور حاضر کی شاعرات
میں جو منفرد مقام ملا وہ پھر کسی اور کے حصے میں نہن آیا۔ان کے ہاں احساس اور جذبے کی جو شدت دیکھنے میں نظر آتی ہےکسی اور سخن ور کے پاس نہن۔

انکے پہلے مجموعہ کلام
خوشبو میں ایک الھڑ نو جوان دوشیزہ کے شوخ جذبے نظر آتے ہیں-عمر کا وہ حصہ جس میں انہوں نے شاعری کا آغاز کیا نمایاں ہے-ایک داسی کی تڑپ ہے۔ہجر کی جلن ہے۔وصل کی راحت ہے۔دعا کی روشنی ہے۔عشق کی چا شنی ہے۔ان کی زندگی کے تلخ تجر بوں کا رنگ بعد کی شاعری میں چھلکتا ہے۔جہاں قسمت کی خرابی ،ازدواجی تعلق کا ٹوٹنا ، شوہر سے ناچا قی اور علیحد گی،ور کنگ ویمین کے مسائل ،سنگل پیرینٹس ہو ناوغیرہ پہ فو کس کیا گیا ہے۔
ہجر و وصال کے قصے ہوں یا غم حیات کے جھگڑے۔
بہت نفاست سے لفظوں میں سمو ۓ گئے ہیں۔

"عجب مکا ں ہے کہ جس میں مکین نہن آتا

حدود ۔شہر میں کیا دل کہیں نہن آتا

میں جس کے عشق میں گھر بار چھوڑ بیٹھی تھی

،یہ وہی شخص ہے ، مجھ کو یقین نہن آتا

مزہ ہی شعر سنانے کا کچھ نہیں جب تک

قصیدہ گویوں میں وہ نکتہ چین نہن آتا

فشار جاں کے بہت ہیں اگر نظر آئیں

ہر ایک زلزلہ زیر زمیں نہن آتا

بھرم ہے مہر و مہ و نجم کا بھی بس جب تک

مقابل ان کے وہ روشن جبین نہیں آتا”
۔۔۔۔۔۔

پروین شاکر کی زندگی کا سفر تلخیوں سے بھر پور تھا۔
یہ احساس بعد کی شاعری میں بھی دکھائ دیتا ہے

مرنے سے بھی پہلے مر گئے تھے

جینے سے کچھ ایسے ڈر گئے تھے

ر ستے میں جہاں تلک دیے تھے

سارے مرے ہم سفر گئے تھے
۔۔۔۔۔

پروین شاکر بنیادی طور پہ غزل گو شاعرہ ہیں یہی صنف ان کی پہچان ہے۔اور ان کی شاعری کا اصل رنگ بھی ہے۔

یہ زہین اور بلند پایہ شاعرہ ایک ٹریفک حادثہ میں 26دسمبر1994میں ہم سے بچھڑ گئیں
اور اپنے ابدی سفر پہ رونہ ہوئیں ان کے پسماندگان میں ایک بیٹا مراد علی ہے -آپ اسلام آباد میں سپرد خاک ہیں ۔

"مر جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے

مرے لفظ میرے ہو نے کی گواہی دیں گے”
۔۔۔۔۔

نادیہ عنبر لودھی
اسلام آباد
پاکستان

نادیہ عنبر لودھی کے قلم سے
"خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر”

پاکستان کی سر زمین شعر وسخن کے حوالے سے بے حد شاداب ہے۔ستر کی دہائ میں خوشبو سے متعارف ہو نے والی پروین شاکر نے اپنے شعری سفر کا آغاز کیا۔پروین شاکر نے 24نومبر 1952 میں ادبی خانوادہ میں آنکھ کھو لی۔آپ کے والد سید شاکر حسن اور نانا عسکری حسن اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے۔ریڈیو پاکستان پہ پروگرامز میں حصہ لیا درس وتدر یس کے شعبے سے وابستہ رہی پھر بعد میں سر کاری ملازمت اختیار کر لی۔شاعری میں احمد ندیم قاسمی کی سر پرستی حاصل رہی۔آپ کا کلام انکے رسالہ فنون میں شائع ہو تا رہا۔1976میں پہلا شعری مجموعہ "خوشبو”کے نام سے منظر عام پہ آیا۔اس کے بعد صد برگ،خود کلامی،انکار،ماہ تمام اور کف آئینہ شائع ہوئے۔
پروین کی شاعری کلا سیکل اور جددیت کا حسین امتزاج ہے رومانوی منظر نامہ ہجر و فراق،وصال یار،اداسی اور آرزوؤں کا عکس ہے۔پروین کی شاعری نسوانی جذبات سے مالا مال ہے وہ نسوانی پندار کا بھی خیال رکھتی ہیں اور بے باکانہ انداز بھی اپنا تی ہیں۔ پروین کے قلم نے پاکستانی عورت کو باہمت سوچ دی اظہار رائے کی آزادی سے روشناس کر وایا۔پروین کی شاعری کا فسوںُ پڑھنے والے کو اپنی گر فت میں لے لیتا ہے۔ایک ایسی تصوراتی دنیا جہاں محبوب کی بے اعتنائ بھی ہے اور پزیرائی بھی۔

"سب سے نظر بچاکے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا

ایک دفعہ تو رک ُگئ گردش ماہ سال بھی”

"شام کی ناسمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا

موج۔ ہوائےکوئےیار ،کچھ تو مرا خیال بھی”

پروین شاکر کی شاعری ان کے اپنے جذبات کی دلی واردات ہے۔ذاتی احساسات کا تال میل ہے۔ جو کبھی درد بن جاتا ہے کبھی دوا۔

"دو گھڑی میسر ہو اسُ کا ہم سفر ہونا

پھر ہمیں گوارا ہے اپنا در بدر ہونا

اک عذاب ۔پیہم ہے ایسے دور وحشت میں

زندگی کے چہرے پہ اپنا چشم تر ہو نا

اب تو اس کے چہرے میں بے پناہ چہرے ہیں

کیا عجیب نعمت تھی ورنہ بے خبر ہو نا

سوچ کے پرندوں کو اک پناہ دیتا ہے

دھوپ کی حکومت میں ذہن کا شجر ہو نا

اس کے وصل کی ساعت ہم پہ آئ تو جانا

کس گھڑی کو کہتے ہیں خواب میں<br

حاضر کی شاعرات<br<br<br<br<br<br
۔ان کے ہاں احساس اور جذبے کی جو شدت دیکھنے میں نظر آتی ہےکسی اور سخن ور کے پاس نہن۔

انکے پہلے مجموعہ کلام<br<br<br<br<br<br
ہیں-عمر کا وہ حصہ جس میں انہوں نے شاعری کا آغاز کیا نمایاں ہے-ایک داسی کی تڑپ ہے۔ہجر کی جلن ہے۔وصل کی راحت ہے۔دعا کی روشنی ہے۔عشق کی چا شنی ہے۔ان کی زندگی کے تلخ تجر بوں کا رنگ بعد کی شاعری میں چھلکتا ہے۔جہاں قسمت کی خرابی ،ازدواجی تعلق کا ٹوٹنا ، شوہر سے ناچا قی اور علیحد گی،ور کنگ ویمین کے مسائل ،سنگل پیرینٹس ہو ناوغیرہ پہ فو کس کیا گیا ہے۔<br<br<br<br<br<br
br<br<br

"عجب مکا ں ہے کہ جس میں مکین نہن آتا

حدود ۔شہر میں کیا دل کہیں نہن آتا

میں جس کے عشق میں گھر بار چھوڑ بیٹھی تھی

،یہ وہی شخص ہے ، مجھ کو یقین نہن آتا

مزہ ہی شعر سنانے کا کچھ نہیں جب تک

قصیدہ گویوں میں وہ نکتہ چین نہن آتا

فشار جاں کے بہت ہیں اگر نظر آئیں

ہر ایک زلزلہ زیر زمیں نہن آتا

بھرم ہے مہر و مہ و نجم کا بھی بس جب تک

مقابل ان کے وہ روشن جبین نہیں آتا"<br

ی زندگی کا سفر تلخیوں سے بھر پور تھا۔<br<br<br<br<br

مرنے سے بھی پہلے مر گئے تھے

جینے سے کچھ ایسے ڈر گئے تھے

ر ستے میں جہاں تلک دیے تھے

سارے مرے ہم سفر گئے تھے<br

نیادی طور پہ غزل گو شاعرہ ہیں یہی صنف ان کی پہچان ہے۔اور ان کی شاعری کا اصل رنگ بھی ہے۔

یہ زہین اور بلند پایہ شاعرہ ایک ٹریفک حادثہ میں 26دسمبر1994میں ہم سے بچھڑ گئیں<br<br<br<br<br<br
ایک بیٹا مراد علی ہے -آپ اسلام آباد میں سپرد خاک ہیں ۔

"مر جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے

مرے لفظ میرے ہو نے کی گواہی دیں گے"<br<br<br<br<br

Mirza Ghalib

نادیہ عنبر لودھی کے قلم سے اسد اللہ خاں غالب کا پس ِمنظر

میرزا نو شہ(حصہ اوّل )

"سو پشت سے ہے پیشہ آباء سپہ گریھ شاعری ذریعہ ِعزت نہیں مجھے ”

انا طو لیہ کو تاریخ عالم میں ہمیشہ سے کافی اہمیت حاصل رہی ہے اس کا لا طینی نام ایشیاء کوچک ہے تر کی کا یہ علا قہ عہد سلجوق میں پھر اس کے بعد عہد عثمانی میں ترکوں کا وطن بن گیا۔

سلجوقی سلطنت گیار ھویں سے چودھویں صدی کے درمیاں وسط ِایشیا میں قائم اسلامی بادشاہت تھی۔ یہ نسلاً  خاندان ِاوغوز تر ک  سے تھے ۔

طفرل بیگ پہلا سلجوقی سلطان تھا اس نے سلجو قی سرداروں کو متحد کر کے حکومت بنائی اس طرح سلجوقی خاندان کے اقتدار کا آغاز ہوا ۔ اس خاندان نے کئی سو برس ایران توران و شام و روم (ایشیاء کو چک)پہ شان و شوکت سے حکمرا نی کی ۔ کئی بادشاہوں کے اقتدار کے بعد صلیبی جنگوں نے اس حکو مت کو منتشر کیا ۔ کیانی تمام ایران و توران پہ مسلط ہو گئے اور تورانیوں کا جاہ و جلال دنیا سے رخصت ہو گیا تو ایک مدت تک تصور کی نسل ملک و دولت سے محروم رہی لیکن تلوار ہاتھ نہ چھو ٹی ۔

تو رابن فریدوں کے خا نادان میں ہمیشہ سے یہ قاعدہ رہا کہ باپ کی وراثت میں تلوار بیٹے کے حصے میں آتی تھی اور سامان خانہ بیٹی کے حصے میں ۔

سلجو قی ترک منتشر حالت میں ایران ترک اور ہندو ستان کے علاقوں میں پھیل گئے ۔ لیکن تلوار ہاتھ سے نہ چھوٹی ۔ ان ہی میں سے ایک ترک امیر زادے نے سمر قند میں بودوباش اختیار کر لی جس کا نام تر سم خان تھا ۔ یہ گھوڑوں کا رسیا تھا اور متمول شخص تھا

ان کی اولاد میں عبداللہ بیگ خان کے والد بھی تھے یہ ترکی کے علاوہ کوئی زبان نہیں بو لتے تھے ۔ ہندوستان آے اور انہیں  میرزا نجف خاں  نے شاہ عالم کے دربار میں منصب دلا دیا ۔ عبداللہ بیگ خاں کی شادی غلام حسین خان کمیدان کی بیٹی سے ہوئی ۔  خواجہ غلام حسین خان  سر کار میرٹھ کے ایک فوجی افسر اور  عمائد ِشہر ِ آگرہ میں سے تھے ۔ آپ شروع میں نواب آصف آلدولہ  کے نو کر ہوۓ پھر وہاں سے حیدر آباد پہنچے اور سر کار آصفی میں تین سو سوار کی جمعیت سے کی برس تک ملازم رہے لیکن وہ نو کری خانہ جنگی کی صورت میں جاتی رہی آپ آگرہ لوٹ آے یہاں آکے الور کا قصد کیا ۔ ان ہی دنوں گڑ ھی کے زمیندار راج سے پھر گئے ان کی سر کو بی کے لئے فوج کو بھجا گیا اس فوج کے ساتھ میرزا عبداللہ کو بھی بھیجا گیا وہاں گولی کا نشانہ بنے اور وفات پا گئے ۔ راج گڑ ھ میں مد فون ہوۓ ۔ میرزا عبداللہ بیگ کے  چھوٹے بھائی نصراللہ بیگ خان  تھے۔

انگریز سر کار کی عمل داری ہندوستان میں قائم ہو گئی ایسٹ انڈیا کمپنی بھڑ تے بھڑ تے آگرہ تک آپہنچی ۔

نواب فخر الدولہ احمد بخش خان لارڈ لیک کے لشکر میں شامل ہو گئےتو انہوں نے میرزا  نصراللہ بیگ کو فوج میں رسالداری کے عہدے پہ ملازم کر وادیا۔

ان  کی رسالداری کی تنخواہ دو پر گنا یعنی سون اور سونسا جو نواح آگرہ میں واقع ہیں ۔ سرکار سے ان کے نام پہ مقرر ہو گئے ۔ جب انگریز آے تو نصراللہ خان نے بر طانوی راج کی اطاعت قبول کر لی اور اس طرح یہ دو پر گنے انکی وفات تک ان کے نام پہ رہے بعد ازاں پنشن مقرر ہو ئی ۔ نصراللہ خان کی وفات ہاتھی سے گرنے سے ہوئی ۔ آپ نے پسماندگان میں دو یتیم بھتیجے بھی چھوڑے بڑے بھتیجے کا نام اسد اللہ خاں  عرف میرزا نوشہ اور چھوٹےبھائی کا نام
میرز
تھا

جاری ہے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔